5 جولائی، 2026، 10:11 PM

شہید رہبر سے الوداع کا تیسرا دن، عالمی میڈیا کی توجہ تشییع میں ایرانی عوام کی وسیع شرکت پر مرکوز

شہید رہبر سے الوداع کا تیسرا دن، عالمی میڈیا کی توجہ تشییع میں ایرانی عوام کی وسیع شرکت پر مرکوز

عالمی میڈیا نے شہید رہبر انقلاب کی نماز جنازہ میں لاکھوں ایرانیوں کی غیر معمولی شرکت کو نمایاں کیا، جبکہ غیر ملکی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے اس اجتماع کو ایران کی قومی یکجہتی اور استقامت کی علامت قرار دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے مصلائے امام خمینی میں شہید امام خامنہ ای کے جسد خاکی کو الوداع پیش کرنے اور نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کی مسلسل شرکت عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا ادارے اس عظیم عوامی اجتماع کو مسلسل نمایاں انداز میں کوریج دے رہے ہیں۔

شہید رہبر کی تشییع پر غیر ملکی صارفین کا ردعمل

سوشل میڈیا پر غیر ملکی صارفین نے اس اجتماع کو ایران کی قومی طاقت کا مظہر قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ تہران بخوبی جانتا ہے کہ امریکہ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ایسے اجتماعات کا بغور جائزہ لیتا ہے، اس لیے یہ منظر واشنگٹن کے اس تصور کا جواب ہے کہ ایران عوامی بغاوت کے دہانے پر کھڑا ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ایران نے اس تاریخی اجتماع کے لیے مثالی انتظامات کیے، یہاں تک کہ شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے لاکھوں افراد کے لیے آب پاش نظام نصب کیا گیا، جبکہ اس نے امریکہ میں حالیہ عوامی اجتماعات کے انتظامات کا بھی تقابل کیا۔

شہید امام خامنہ ای کی تشییع ان کی آخری بڑی کامیابی ہے، ایلن میزراحی

تجزیہ کار ایلن میزراحی نے کہا کہ شہید امام خامنہ ای کی تشییع کو ان کے دشمنوں کے خلاف آخری بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ شہید امام خامنہ ای اپنے انجام اور اس کے اثرات سے پوری طرح آگاہ تھے اور بالآخر وہ اپنے دشمنوں پر غالب رہے۔

امریکہ کا منصوبہ الٹا پڑ گیا، ہرٹ ایرکسن

امریکی ماہر برٹ ایرکسن نے کہا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا امریکی منصوبہ الٹا نتیجہ دے رہا ہے اور اس جنگ کا سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ ایران پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ عوامی حمایت رکھنے والا اور عالمی سطح پر زیادہ بااثر ملک بن کر سامنے آئے گا۔

ایک امریکی میڈیا تجزیہ کار نے کہا کہ تشییع کے دوران "مرگ بر امریکہ" کے نعروں نے امریکہ کے اتحادیوں کے لیے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

لاکھوں ایرانیوں نے مغربی بیانیہ مسترد کر دی، برطانیہ ریڈیو

ایک برطانوی ریڈیو میزبان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل برسوں سے یہ تاثر دیتے رہے کہ ایران میں امام خامنہ ای کو عوامی حمایت حاصل نہیں، لیکن لاکھوں ایرانیوں کی موجودگی نے اس بیانیے کو غلط ثابت کر دیا۔

دوسرے روز بھی لاکھوں عزادار شریک رہے، لوموند

فرانسیسی اخبار لوموند نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ شہید امام خامنہ ای کی تشییع کے دوسرے روز بھی لاکھوں افراد مصلائے امام خمینی اور اس سے ملحقہ شاہراہوں پر جمع رہے۔

اخبار کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے عزاداروں کے لیے پانی، مشروبات اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ ایرانی حکام نے اندازہ ظاہر کیا کہ صرف تہران میں تشییع میں شرکت کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔

لوموند نے مزید لکھا کہ ایران سے باہر اس عظیم اجتماع کو اسلامی جمہوریہ کے لیے عوامی حمایت کی ایک اہم آزمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عراق میں شہید رہبر کی تشییع کے پیغامات

عراقی تحریک نجباء کے ترجمان حسین الموسوی نے عراقی عوام سے شہید امام خامنہ ای کی تشییع میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب صرف ایک جنازہ نہیں بلکہ مذہبی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے ایک تاریخی واقعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجف اشرف اور کربلا میں تشییعی تقریبات کا انعقاد عراق اور ایران کے گہرے دینی اور اعتقادی تعلقات کا مظہر ہے، جبکہ یہ اجتماع اس حقیقت کی بھی علامت ہے کہ محور مقاومت اپنے شہید رہبر کے بعد بھی مضبوطی سے قائم ہے۔

ہندوستانی میڈیا کی نظر میں تشییع کا سب سے مؤثر منظر

ہندوستانی میڈیا ادارے انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ شہید امام خامنہ ای کی 14 ماہ کی نواسی زہرا محمدی گلپایگانی کے چھوٹے تابوت نے پوری تقریب کا سب سے زیادہ اثر چھوڑنے والا منظر پیش کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ رہبر شہید اور ان کے اہل خانہ کے تابوتوں کے ساتھ اس کم سن بچی کا تابوت اس تقریب کو محض ایک سیاسی یا قومی اجتماع سے بڑھا کر ایک گہرے انسانی المیے کی تصویر بنا گیا۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق اس منظر کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئیں اور انہوں نے سیاسی مباحث سے بڑھ کر جنگ کے انسانی اثرات کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرائی۔

News ID 1940152

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha